Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیا اور جدت پسندی (پریزہ شاہد)

حیا ا نسان کی فطر ی صفت ہے چونکہ د ین اسلام ایک فطر ی د ین ہے اس لیے اس میں حیا کی بہت تعلیم دی گی ہے۔نبی ا کرم نے فر ما یا:” © © حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ ( بخاری) یعنی جس شخص میں ا یمان ہو ا س میں حیا بھی ہو۔ شرم و حیا ا سلا می معا شرے کی بنیا د ہے۔ قران میں شرم و حیا اور عفت و پاکیز گی کو بنیادی ا ہمیت حاصل ہے۔ ہر دین کی ایک امتیازی علامت ہوتی ہے اور اسلام کا امتیاز حیا ہے۔ مسلمان معاشرے اور کا فرمعاشرے میں جو سب سے نمایاں فرق ہے وہ حیا کا تصور ہے۔ ایمان کی حفاظت میں حیا کا بڑا عمل دخل ہے۔ حیااورایمان جڑواںہیںاگر ان میں سے ا یک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے یعنی جس میں حیا نہیں رہتی اس میں ایمان نہیں رہتا۔

شیطان نے سب سے پہلے حضر ت ادم کو بہکا یا کہ اس در خت کا پھل کھا لو۔جب ا نھو ں نے کھا لیا تووہ بطو ر سزا بے لبا س ہو گے۔ اس سے ثا بت ہو ا کے روز ا ول سے شیطا ن کا یہی مقصد ہے کہ وہ انسا ن کی حیا پر وار کرے۔اس لیے دشمنان اسلام بھی اسلام ختم کر نے کے لیے سب سے پہلے مسلما نو ں کی حیا پر و ا ر کر تے ہیں۔ ڈ راموں، فلمو ں، ا شتہا را ت اور مارننگ شو ز کے ذ ریعے معا شر ے میں بے حیا ئی پھیلتی ہے۔ جب مسلما نو ںسے حیا چلی جا ے گی تو ا یما ن خو د ہی ر خصت ہو جا ئے گا۔ ان کی یہ ساز ش بالکل کا میا ب جا ر ہی ہے مسلمان بتد ریج حیا اور ایمان سے محر وم ہو تے جا ر ہے ہیں۔حیا کے دو در جے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ لو گو ں سے حیا کر نا ملا اساتذہ، والدین اور بزرگ وغیرہ۔ حیاکا یہ تصو ر جن میں پا یا جا ئے اور وہ اس کی و جہ سے خو د کو بر ے کا مو ں سے بچائےں اسلا م نے ان کی قد ر کی ہے۔

حیا کا دو سرا تصو راللہ سے حیا کر نا ہے اور یہ ہی حیا کا ا صل مقصد ہے کیو نکہ لو گو ں سے حیا کا سبب بھی پس پر د ہ اللہ سے حیا ہی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے ہمارا معاشرہ نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے،جدت پسندی کی روشنیاں ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں ،آزادی کے مراحل ہم طے کررہے ہیں مذہب کو راستے سے ہٹا رہے ہیں لیکن ہمیں یہ ہی نہیں معلوم کہ ہماری منزل کیا ہے۔آزادی تو ہر شخص کی خواہش ہے لیکن یہ عجیب آزادی ہے جس میںتقلیدکی آمیزش ہے۔ہم خواتین کو حقوق دیتے ہیں لیکن اپنی روایات کے نہیں بلکہ مغربی اقدار کے مطابق ہم اختلاط کو گوارا کرتے ہیں کسی فائدے نقصان کی بنیاد پر نہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدت پسندی کی رائج اصطلاح ایک تاریک راہ ہے ،جس کا آغاز خواہش کی تکمیل کی امید سے ہوتا ہے اور انجام تباہ کن بے قراری اور بے سکونی کا ہوتا ہے ۔حضرت فاطمہ سب سے زیادہ حیا دار تھیںاور پردے کی نہایت پابند تھیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا ”اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے“ (سنن بیہقی)

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ مثلا: ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا انٹر نیٹ استعمال کرہے ہیں۔آپ کے آس پاس کوئی نہیںہے اور کسی کی آپ پر نگاہ نہیں ہے ،آپ جو چاہے دیکھ سکتے ہیں تب بھی اللہ تو آپ کو دیکھ ہی رہا ہے ۔ اس وقت اللہ سے حیا ہی ایمان ہے اور یہ ہی حیا ایک مومن سے مطلوب ہے۔

کبھی حیا انہیںآئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سوسو طرح فتور آیا

Exit mobile version