Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیا اور جدت پسندی (نزہت ریاض)

”عابدہ او عابدہ ۔۔ ارے منحوس کان بند ہیں کیا تیرے ۔۔ ؟“ عابدہ کی ساس نے چیخنے کے انداز میں بہو کو آواز دی۔ ”اماں توے پر روٹی ڈالی ہوئی ہے جل جائے گی“، عابدہ نے کچن سے ہی ساس کو جواب دیا اور توے سے روٹی اتار کر کپڑے میں لپیٹی اور تیزی سے ساس کے کمرے کی طرف لپکی۔”جی اماں بولیں“، عابدہ نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔ جی اماں کی بچی! چار آوازیں لگاو ¿ تو ایک بار سنتی ہے ۔ پانی پلا مجھے، عابدہ کی ساس نے غصے سے کہا۔ جی اچھا! ساس کو پانی پلا کر عابدہ واپس کچن کی طرف جانے لگی کہ ساس کی آواز دوبارہ کانوں میں گونجی ۔ ”کھانے میں کتنی دیر ہے؟“، ”کھانا تیار ہے اماں ! بس روٹی ڈال رہی تھی ، ساس کے سوال پر عابدہ نے جواب دیا۔۔اچھا اچھا جلدی کر۔

عابدہ کی شادی کو 7 سال ہو چکے تھے ، شادی کے شروع دنوں میں اس کے سسرال والوں رویہ بہت اچھا تھا شوہر بھی اس کا خیال رکھتا تھا ۔ شادی کو ایک سال ہوا اور عابدہ سے سب کا ایک ہی سوال تھا کب خوش خبری سنا رہی ہو ۔

ساس کے پاس محلے پڑوس اور برادری کی عورتوں کا ہر وقت کا آنا جانا رہتا وہ بھی ہر چکر میں یہی سوال دہراتی رہتی۔ کچھ ہوا کہ نہیں؟ اور ساس سوالیہ نظروں سے عابدہ کی طرف دیکھنے لگتی۔۔ جب ڈیڑھ سال ہوا تو سوالیہ نظریں چبھتی ہوئی نظروں میں بدل گئی عابدہ کے پاس ہر سوال کے جواب میں صرف خاموشی تھی۔

وقت گزرتا جارہا تھا اور سسرال والوں کا رویہ دن بہ دن بد سے بد تر ہوتا جا رہا تھا ساس کا اپنے بیٹے سے اصرار تھا کہ دوسری شادی کر لو مگر عابدہ کا شوہر دوسری شادی کے لیے راضی نہ ہوتا تھا حا لانکہ وہ عابدہ کا خیال نہیں رکھتا تھا ۔

سسرال میں اس کے ساتھ کتنا بھی برا سلوک ہو رہا ہو وہ کبھی اس کی کوئی حمایت نہ کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سسرال میں عابدہ پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی تھی مگر وہ بھی ایک چپ سو کو ہراے پر عمل کرتے ہوئے سارا دن کولہو کا بیل بنی کام میں لگی رہتی اور اپنے لیے بڑی مشکل سے نماز اور تلاوت قرآن کا وقت نکال پاتی۔ ایسے ہی ایک دن عابدہ کی بڑی نند ان کے گھر رہنے لگی۔ وہ جب بھی رکنے کے لیے آتی عابدہ کی ساس کا رویہ عابدہ کے ساتھ اور برا ہو جاتا کیونکہ وہ عابدہ کے خلاف اس کی ساس کو بھڑکاتی رہتی تھی۔

اس بار اس کے دماغ میں ایک پلان تھا اس نے اپنی ماں سے سرگوشیوں میں کہا جب تک عابدہ زندہ رہے گی تب تک بھائی شادی کے لیے راضی نہ ہو گا اور تم پوتے کی آرزو کرتے کرتے اس دنیا سے چلی جاو ¿ گی کیوں نہ ہم عابدہ بھابی کو جلا کر مار دیں اور حادثہ قرار دے دیں۔ ساس کو بھی یہ شیطانی منصوبہ پسند آگیا۔

عابدہ دوپہر کے کھانے پینے کا ساراکام نمٹا کر اپنے کمرے میں ظہر کی نماز پڑھتی قرآن پڑھتی اور پھر عصر میں سب گھر والوں کے لیے چائے بنانے کچن میں آتی۔ اس درمیان کے وقت کب فائدہ اٹھاتے ہوئے عابدہ کی نند نے کچن کے چولہے کے سارے برنر کھول دیا، جیسے ہی عابدہ کے کچن میں آنے کا وقت ہوا برنر بند کر کے تیز خوشبو والا اسپرے کر دیا تاکہ عابدہ کو گیس کی بدبو نہ آسکے۔ اس کا شیطانی منصوبہ کامیاب ہوا جیسے ہی عابدہ نے ماچس کی تیلی جلائی پورا کچن آگ کی لپیٹ میں آگیا اور عابدہ کے ریشمی کپڑوں نے فوراً آگ پکڑ لی وہ بے چاری چیختی چلاتی کچن کے دروازے کی طرف بھاگی مگر دروازہ تو باہر سے بند تھا۔

عابدہ کی نند نے عابدہ کے کچن میں جاتے ہی خاموشی سے باہر سے دروازے کی کنڈی بند کر دی تھی۔ اللہ کیا منظر تھا دو عورتیں تیسری عورت کو جلتے بلکتے دیکھ رہی تھیں اور عابدہ کی چیخوں پر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگ رہی تھی۔ آخر عابدہ زندگی کی بازی ہار گئی اور حادثہ بتا کر اس کا کفن دفن کر دیا گیا اس کے غریب ماں باپ بھی رو دھو کر اپنے گھر چلے گئے سوئم سے فارغ ہوکر عابدہ کا شوہر کافی دیر تک عابدہ کی قبر پر سر جھکایا افسردہ سا بیٹھا رہا پھر خاموشی سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچ کر اس نے ڈور بیل بجانے کے بجائے اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول لیا تاکہ گھر والے پریشان نہ ہوں۔

اب عابدہ تو تھی نہیں جو آدھی رات کو بھی اٹھ کر اس کا دروازہ کھولا کرتی تھی اندر آنے کے بعد وہ اپنے کمرے کے طرف جا رہا تھا کہ اسے ماں کی آواز سنائی دی امی جاگ رہی ہیں چلو تھوڑی دیر امی کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔ خالی کمرہ تو ویسے ہی کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔۔

ماں کے کمرے کے پاس آکر ایک لمحے کو رکا اندر سے زور زور سے بولنے کی آواز آرہی تھی یہ اس کی بہن کی آواز تھی جو ماں سے مخاطب تھی۔ میں نے تو آپ کی خوشی کے لیے عابدہ کو جلایا تھا اب عابدہ کے زیور تو کم از کم مجھے دو ، یہ سن کر تو اس کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی تو کیا عابدہ کی موت حادثہ نہیں تھی ۔ میری ماں اور بہن نے اسے مار ڈالا مگر کیوں اس نے زور سے دروازہ کھولا اور اپنی بہن کے سر پر جا کھڑا ہوا ۔

بدبخت تمہارا کیا بگاڑا تھا اس شریف عورت نے ۔۔ اس کی بہن نے خوفزدہ ہو کر سارا ماجرا کہ سنایا، ارے کم بخت یہ تو نے کیا کر ڈالا ، میں دوسری شادی کے لیے اس وجہ سے راضی نہ ہوتا تھا کہ میں اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھا۔ شادی کے پہلے دن سے ہی میں ازدواجی حق ادا نہ کر پایا تھا ۔ میں نے کئی بار اس شریف عورت کو بولا کہ تم مجھ سے طلاق لے لو میں تمہارے قابل نہیں ہوں مگر اس نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کہ ”حیا میرا زیور ہے“ میں ہمیشہ آپ کا پردہ رکھوں گی اور وہ حیا دار عورت میرا پردہ رکھتے رکھتے اپنی جان کی بازی ہار گئی۔

 

Exit mobile version