Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاء اور جدت پسندی (ڈاکٹر راحت جبین)

حیاء کے لغوی معنی شرم، لاج، حجاب اور غیرت کے ہیں۔ جب کہ بے حیائی ان سب کے برعکس ہے۔ قرآن پاک نے شرم وحیاءکو مرد اور عورت دونوں کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔

اے نبی ﷺ! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ (سورة نور)

ےہی حکم مومن عورتوں کے لیے بھی ہے۔ درحقیقت صرف ستر پوشی اور جسم کا پردہ ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی برائی اور گناہ سے بچنا بھی حیاءکے زمرے میں آتا ہے۔ خصوصاََ اس بات کے ادراک کے ساتھ کہ ہمارا کوئی بھی عمل اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں اور اللہ سے حیاءکا تقاضا بھی یہی ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا۔

”جب تجھ میں حیاءنہ رہے تو جو چاہے کر۔ (بخاری)

ایک اور حدیث مبارکہ ہے۔

”حیاءایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے۔ بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی جہنمی ہے۔”(ترمذی)

اسلام نے حیاءکو ایمان سے تشبیہہ دے کر ایک دوسرے کے لیے لازم قرار دیا۔ اس حساب سے حیاءکو ایمان کا محافظ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ گناہ اور بدفعلی سے روکتا ہے۔ حیاءکا عنصر کسی بھی شخص کو ایمان کی ضمانت کے ساتھ جنت کی بشارت بھی دیتا ہے جب کہ بے حیاءکے لیے دوزخ کی وعید ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ،

”ہر دین کی ایک پہچان ہوتی ہے اور اسلام کی پہچان شرم وحیاءہے۔”(مشکوٰة)

کائنات کی تخلیق کے وقت اللہ تعالیٰ نے ہر ذی روح کے نسل کی بقاءکے لیے نر اور مادہ جوڑے بنائے۔ اسی طرح نسل انسانی کی پیدائش آدم علیہ السلام سے کی تو ان کے بائیں پہلو کی ایک پسلی سے حضرت بی بی حوا علیہ السلام کو پیدا کرکے اس جوڑے کی تکمیل کی۔ ساتھ ہی عقل و شعور دے کر اسے اشرف المخلوقات کا درجہ بھی دیا۔ پھر تمام فرشتوں کو انسان کی تعظیم کے لیے اسے سجدہ کرنے کا حکم ملا۔ یہی وہ وقت تھا جب ابلیس تکبر کی وجہ سے منکر بن کر نہ صرف ہمیشہ کے لیے ملعون قرار پایا بلکہ حسد میں ان دونوں کو ورغلایا بھی۔ نتیجتاً ابلیس کے بہکاوے میں آکر حضرت آدم علیہ السلام ا ور حضرت بی بی حوا علیہ السلام ممنوعہ پھل کھا کر جنت بدر کیے گئے تو ان کی آنکھوں پہ پڑا حجاب بھی اتر گیا اور دونوں کی عریانیت ایک دوسرے پر ظاہر ہوئی مگر انہوں نے فطری شرم وحیاءکے باعث اپنے جسم کو درخت کے پتوں سے ڈھانپ لیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انسان کے علاوہ اور کسی مخلوق کو ستر پوشی کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔

شیطان کی گمراہی کا وار صرف حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت بی بی حوا علیہ السلام کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھا۔ اس لیے انسان اپنی شہوت کو روک نہ پایا اور قوم لوط نے تو شرم وحیاءسے دامن چھڑا کر مردوں سے بھی جنسی میلان کیا۔ یہی اغلام، بد فعلی اور ہم جنس پرستی ان کی تباہی کا باعث بنی۔

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ نے فرمایا ”سب سے زیادہ اندیشہ مجھے اپنی ا مت پر قوم لوط کے فعل کا ہے۔” (ترمذی)

اسی خطرے کے پیش نظر مختلف ادوار میں بے حیائی سے بچنے کے لیے نکاح کے مختلف طریقے رائج ہونے لگے۔ دین اسلام کے بعد حضرت محمد ﷺ نے نکاح کا موجودہ طریقہ اپنانے کی تاکید کی تاکہ شہوت اور بے راہ روی سے بچا جاسکے۔ حدیث مبارک ہے کہ،

” نکاح میری سنّت ہے اور جس نے میری سنّت پہ عمل نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔“(سنن ابن ماجہ)

موجودہ دور میں ترقی کا معیار یکسر بدل چکا ہے اور رسول اکرم ﷺ کا اپنی امت کے بارے میں قوم لوط کے فعل والا اندیشہ بھی درست ثابت ہوچکا ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ پورا معاشرہ بشمول مسلمان اس قبیح فعل میں گرفتار ہے۔ معاشرے کے آزاد خیال، جدت پسند، فیمینزم کے حامی لوگ اور ان سے وابستہ تنظیمیں یہ باور کرانے کی کوششوں میں ہیں کہ عورتوں پر شرم وحیاءکو لے کر پابندیاں درحقیقت ان کے حقوق سلب کیے جانے کے مترادف ہے۔ ایک جانب اس نظریے کی آڑ میں یوم خواتین اور دیگر جلسوںمیں کیے جانے والی تقاریر اور بینر اس بات کی غمازی ہیں کہ وہ شرم و حیاءکو لے کر نہ صرف خود اسلامی اصولوں اور پابندیوں کے منکر ہیں بلکہ فحاشی اور عریانیت کی دوڑ میں شامل نہ ہونے والوں کو بھی جاہل قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف ویلنٹائن ڈے میں ہم جنس پرستی اور بے راہ روی کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوششیں بھی عروج پر ہیں۔ ویلنٹائن کے حامی لوگ بیانیہ دیتے ہیں کہ یہ محبت کا دن ہے،ضروری نہیں کہ نامحرم ایک دوسرے کو پھول دیں بلکہ دوسرے مقدس اور محرم رشتے بھی پھولوں کا تبادلہ کرکے یہ دن منا سکتے ہیں۔ مگر کیا محرم اور جائز محبت کی تشہیر ضروری ہے اور یہ محبت صرف ایک دن کی متقاضی ہے؟ سخت ترین اسلامی قوانین کا پابند اور اسلام کا سب سے بڑا علمبردار سعودی عرب بھی بے حیائی کی دوڑ میں پیش پیش ہے جہاں شراب اور جوئے خانے کھولنے کے ساتھ اب باقاعدہ ویلنٹائن ڈے بھی منایا جارہا ہے۔

دور جدید میں بے حیائی کے پھیلائو میں اہم کردار میڈیا کا ہے جو ترقی کے بوسیدہ معیار کی چکی میں پس کر حجاب سے بنا دوپٹے تک کا سفر کامیابی سے طے کرچکا ہے۔ پہلے صرف بڑے شہروں میں قحبہ خانے ہوتے تھے جہاں معاشرے کے مہذب مرد رات کی تاریکی میں چھپ کر طوائفوں سے ملنے جاتے تھے مگر اب تو سوشل میڈیا کی بدولت شہوت انگیز وڈیوز ہر اس شخص کی دسترس میں ہیں جس کے ہاتھ میں برقی آلہ ہے۔ اسی کی بدولت مہذب گھرانوں کی بچیاں ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ پر مجرے کررہی ہیں۔ قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ نہ صرف ملک کے حکمران ان کے آگے بلیک میل ہیں بلکہ یہی ٹک ٹاکر اور ماڈل لڑکیاں دوسرے ممالک میں ہماری سفیر بھی ہیں۔

اب توعام زندگی میں بھی اچھائی اور برائی کا فرق تقریباً مٹ چکا ہے۔ ساتھ ہی ے حیائی کو ترقی کی دلیل کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ بے پردہ اور ماڈرن عورتیں خود پر انگلی اٹھانے والوں کو یہ کہہ کر خاموش کراتی ہیں کہ مرد اپنی نگاہ نیچی رکھے۔ بالکل بجا! مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورتیں اپنی حدود سے تجاوز کرکے قوم لوط کو بھی شرما دیں۔ ادب کی بات کی جائے تو یہ بھی بے ادبی کی حدود میں داخل ہوچکا ہے جہاں جنسی موضوعات کو تفصیلی انداز میں لکھنا بہترین ادب کے زمرے میں آنے لگا ہے۔

مسلمان ہونے کے ناتے جہاں ہم سب سے قیمتی زیور حیا ءکو گنوا رہے ہیں وہیں جدیدیت، بے پردگی، آزادانہ خیالات اور فیمینزم کو ترویج دے کر تباہی کے اس دہانے کی جانب بڑھ رہے ہیں جو اسلام سے پہلے کئی قوموں کا خاصہ تھا اور اسی کی بنا پر وہ مشیت ایزدی سے مبتلائے عذاب کیے گئے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر حیاءکے تقدس کو مزید پامال ہونے سے بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایمان کی سلامتی کے لیے یہ ضروری ہے کہ شرم وحیاءکا دامن تھام کر تزکیہ نفس کریں۔

Exit mobile version