Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاء اور جدت پسندی (عرفان اقبال)

اس حقیقت سے کسی کو کوئی انکار نہیں کہ تخلیق آدم اللہ تعالیٰ کے بڑےشاہکاروں میں سے ایک ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم حیا جیسے ایک عظیم رکن پر بات کریں چند معروضات جن کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔

رب تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو انسان کی جبلت میں جہاں باقی عوامل شامل کیے۔ وہیں اللہ تبارک و تعالی نے عابد اور معبود کے درمیان فرق پیدا کرنے کے لیے کچھ عوامل انسان کی فطرت میں شامل کیے مثال کے طور انسان محتاج ہے جبکہ رب تعالیٰ محتاج نہیں ہے۔ انسان ڈرتا ہے رب تعالیٰ کو کسی کا ڈر نہیں۔ انسان بھوک وغیرہ کے معاملات میں کسی سہارے کا ضرورت مند ہے۔ اسے کسی بیرونی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ رب تعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی کافی سارے عوامل ایسے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالی نے صرف اس لیے انسانیت کے ساتھ جوڑا تاکہ عابد اور معبود کے درمیان فرق پیدا کیا جاسکے۔

جب اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کے دنیا کی چیزوں کا ایک لحاظ سے خالق بھی بنا کے بھیجا۔ جس کی کئی مثالیں سائنسی ایجادات کی صورت میں ہمارے سامنے بھی ہیں۔ وہ عوامل ایسے ساتھ جوڑے کہ انسان کا ان سے دامن چھڑانا مشکل بلکہ نا ممکن ہوگیا۔ انہی عوامل میں سے ایک نعمت جو اللہ تبارک و تعالی نے انسان کی فطرت میں رکھی کہ جس سے خود اللہ تعالیٰ پاک ہیں وہ ”حیائ“ ہے۔ یہاں سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حیاءکیوں بنایا ہے ؟

جیسا کہ پہلے ہی بات ہوچکی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کچھ چیزیں انسان کی فطرت میں ایسی رکھیں جن سے وہ خود پاک ہیں۔ وہ اہم پہلو حیا ہے اللہ پاک ہے قرآن کی آیات میں کئی جگہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہیں کہ ”وہ کسی بات کے بیان کرنے میں حیاءکریں“۔

بنیادی طور پر انسان میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حیا کو شامل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ انسان اللہ تبارک و تعالیٰ سے حیاءکرے کیونکہ یہ بات اللہ تبارک و تعالیٰ کو خوش کرتی ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی احادیث کے مختلف الفاظ میں یہ حکم دیا کہ، ”اللہ تبارک وتعالیٰ سے حیاءکرو۔“ اسی وجہ سے حیاءکو ایمان کا بہت بڑا رکن قرار دیا گیا آپ نے فرمایا” حیا ایمان کے شعبہ جات میں سے ایک ہے۔“

ویسے تو اسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرد و زن میں برابر رکھا تھا لیکن اسلام کی آمد کے بعد اس کا سب سے پہلا مظہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہیں۔ گویا پہلے یہ حکم خداوندی جبکہ بعد میں حکم کے ساتھ ساتھ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بن گیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” رسول اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری عورتوں سے بھی زیادہ شرم و حیا والے تھے۔“ پھر صحابہ میں حضرت عثمان کا پہلا نمبر ہے جبکہ نسوانی فطرت میں اسے وہ مقام حاصل ہوا جیسے پھول کے لیے خوشبو کوئی بھی عورت اس کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ جس فارمولے کے تحت مرد میں غیرت کے عنصر کو شامل کیا گیا۔ اسی فارمولے کے تحت اللہ تعالیٰ نے عورت کو شرم و حیاءکی دولت سے مالا مال کیا۔

حیاءعورت کے اندر ایک ایسا بیج ہے جس کے پھول کی پورا جہاں معطر ہو جائے۔ یاایک ایسا لباس ہے جو کردار کی خوبصورتی کا ضامن ہوتا ہے۔ اگر نظام فطرت کے اوپر ہم غور کریں تو حیاءعورت کی شخصیت وہ زیور ہے جو ناصرف اس کے کردار کو خوب سے خوب تر بنا کے سامنے لاتاہے بلکہ اس کی ہی بدولت عورت محبت اور عزت کے مقام پربراجمان ہوتی ہے یہی وجہ تھی جس کی بدولت اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو اس عظیم نعمت کی ملکہ بنایا تاکہ مرد کی نظر میں کہیں بھی اس کا مقام نیچے نہ جائے۔ یہ خوبصورت تحفہ اکیلی ایک عورت کی عزت اور وقار کا ضامن نہیں ہے بلکہ اس کی کوکھ میں پلنے والی تمام نسلوں کے وقارکا ضامن ہے لیکن کاش کہ موجودہ عورت اس حقیقت کو سمجھ پاتی۔

جس طرح فطرت میں شامل ہے کہ مچھلیوں کی زندگی کا وجودپانی کے اندر ممکن ہے خشکی میں وہ خود کو زندہ نہیں رکھ پاتی ویسے ہی شرم و حیاءعورت کی فطرت میں شامل ہے چنانچہ عورت کا ملبوس شرم و حیاءہوناصرف ضروری نہیں بلکہ اس کی فطرت میں شامل ہے آپ نے شاید کبھی غور کیا ہو چاہے عورت بدکردار یا بدچلن کیوں نا ہو کسی نا کسی بات پر ضرور شرما جاتی ہے کبھی سوچا کیوں؟ کیونکہ شرم و حیاءاس کی فطرت سے ظاہر ہونے لگ جاتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اگر میں حیاءکے ترازو میں آج کی عورت کو تولتا ہوں تو مجھے بہت ترس آتا ہے آج کی عورت پر اوراس کی سوچ پر دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ وہ عظیم نعمت اور تحفہ جو حیاءکی صورت میں اسے دیا گیا تھا اس نے اسے اٹھا کر نا صرف ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا سے بلکہ اس سے دامن چھڑانے پر فخرمحسوس کرتی ہے۔ بجا کہ رب کی طرف سے دی گئی اس نعمت کبریٰ کے ٹھکرانے پر ہماری عورت قصور وار ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری خواتین کو مس گائیڈ کیا جارہا ہے جس کی انہیں سمجھ نہیں آرہی ایک مرد ہونے کے ناتے میں اس حقیقت سے پردہ اٹھاو ¿ں گا کہ کسی بھی عورت کی خوبصورتی ایک مرد کے اوپر اتنا اثر انداز نہیں ہوتی جتنا کہ اس میں شرم و حیا کی دولت سے مالا مال اس کا رویہ اسی بات کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا،

سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط

خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا

امید کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہم مسلمانوں کی بیٹیوں کو شرم و حیا کے دولت سے مالا مال فرمائے اور انہیں سچی مسلمان عورت کا مقام عطا کرے، آمین

Exit mobile version