Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاء اور جدت پسندی (ابن شبیر)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، یعنی تمام مخلوقات میں سے افضل ترین۔ اللہ تعالی نے انسان کو برہنہ پیدا کیا ہے۔ انسان نے اپنی عقل کے استعمال سے اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لیے کپڑے بننا سیکھے۔ پہلے پہل انسان اپنے بدن کو ڈھانپنے کے لیے درختوں کے پتوں کا استعمال کرتا تھا۔جوں جوں انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا گیا اس کے شعور میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا۔شرم وحیا کا عنصر ہر با شعور انسان میں پایا جاتا ہے جو عقل اور علم رکھتے ہیں۔ شرم و حیا عورت کا گہنا ہے۔ اللہ نے عورت کو شرم و حیا والا پیدا کیا ہے۔ مگر آج کے جدید دور میں عورت یہ بھول گئی ہے کہ وہ ایک رب کی بنائی گئی بندی ہے جس کا مقصد راہ الہی میں اپنی خدمات انجام دینا ہے۔ آج عورت اپنی شرم و حیا کا جنازہ نکال کر لیبرل بننا چاہتی ہے۔ جس معاشرے نے اسے اتنی عزت دی، جس باپ نے اسے شفقت سے پالا، جس بھائی نے اتنے لاڈ اٹھائے، جس شوہر نے اتنی محبت دی آج یہ ان سب کا جنازہ نکال کر آزادی کے نعرے بلند کر رہی ہے۔وہ یہ بھول گئی کہ وہ ایک مسلمان گھرانے کی عزت دار خاتون ہے۔اسلام نے عورت کو مرد سے زیادہ عزت دی ہے۔مگر آج یہ ان سب کو فراموش کر کے اپنے آپ کو مغربی تحزیب کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوشاں ہے۔میری یہ بات ہر اس عورت کے لیے ہے جو اپنی مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔جو اسلام سے ہٹ کر اپنے آپ کو بنا سنوار کر دوسروں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ جو بازاروں کی زینت بننے میں ہر اول دستہ گاہے بگاہے کام کرتی ہیں۔نت نئے فیشن ایبل ملبوسات زیب تن کر کے چست اور تنگ قسم کے لباس اور برقے پہن کر بازاروں میں نکلتی ہیں۔ ان پر مرد حضرات نا چاہتے ہوئے بھی نظریں اٹھا کر جھکا نہیں سکتے۔ یہ برقے اور لباس اتنے تنگ ہوتے ہیں کہ عورت کی جسمانی ساخت واضع نمایا ہوتی ہے۔ یہاں پر قصور وار کون۔۔۔۔؟ مرد۔۔؟ عورت۔۔؟ یا یہ فیشن ایجاد کرنے والے۔۔۔؟

آج کل پاکستان میں مغربی لباس اور فیشن نے پاکستان کی عورتوں کو فحاشی کے ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا کہ ان سے بچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بن گیا۔ آج کل کے لباس بھی اس قدر پتلے اور باریک ہیں کہ عورت لباس میں ہوتے ہوئے بھی برہنہ ہوتی ہے۔آج کی عورت اپنی بچیوں کو بچپن ہی سے جنز اور تنگ ٹائٹس پہنانا شروع کر دیتے ہیں جو بچوں کے بڑے ہونے پر ان میں مقبولیت اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔آج کل کے بچے تو دور کی بات بچوں کی مائیں بھی دوپٹو سے کوسوں دور بھاگتی ہیں۔ ایک پہلے کا دور تھا کہ اپنی بچی کے لیے گڑیا خریدتے تو اس کا دوپٹہ بھی ساتھ لیتے تھے تاکہ اس سے بچیوں میں دوپٹہ لینے کی عادت پڑ جائے۔ہماری عورتوں کے دوپٹے سروں سے سرک کر گلے تک اور پھر گلے سے کندھے تک اور پھر غائب۔۔۔۔ اسلام نے عورت کو بلند مقام عطا کیا ہے مگر افسوس کہ آج کی عورت نے اپنے مقام کو پس پ ±شت ڈال کر مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔ عورت کو صرف اولاد کی پرورش اور گھر داری کے لیے ہونا چاہیے تھا نا کہ مردوں کی برابری کے لیے۔عورت کی کمائی مرد پر حرام قرار دی گئی ہے۔ عورت کمانے کے لیے ایک ہی صورت گھر سے نکل سکتی ہے جب گھر میں کمانے والا کوئی مرد نہ ہو۔جب تک عورت کا باپ، بھائی،شوہر، جوان بیٹا زندہ ہوں عورت کی کمائی مرد پر حرام ہے اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔یہ میں نہیں ہمارا اسلام کہتا ہے۔ آج کل ہماری خواتین مردوں کے برابر ہر کام کر رہی ہیں۔ نوکری کے لیے تعلیم حاصل کی اور پھر چھوٹی سی نوکری کے لیے ناجانے کون کون سی شرائط سے گزرنا پڑتا ہے۔کہیں حجاب پر پابندی تو کہیں لباس پر پابندی۔ کبھی لباس اچھا نہیں تو باتیں، فیشن ایبل نہیں تو باتیں ، میک اپ نہیں کیا تو باتیں۔اگر کوئی عورت اسلام کے دائرے میں رہ کر کچھ کرنا چاہے تو اکثر مرد انہیں جینے نہیں دیتے۔ ارد گرد کام کرنے والے لوگ انہیں حراساں کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔جب بات نہ بنی تو زبردستی پر اتر آئے۔ آج کل مردوں سے زیادہ عورتیں آزاد خیال ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ وہ کسی باپ کی عزت اور کسی بھائی کا مان ہے۔ بس اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے سب کچھ کر گزرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن انٹرنیٹ پر سیکڑوں ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جو ان کے گھروں کے اجڑنے کا سبب بنی۔

شرم و حیا عورت کا گہنا تھا ناجانے یہ گہنا اتار کر عورت نے کہا رکھ دیا۔۔؟ اسی شرم وحیا کو لے کر ناجانے کتنے باپ اپنے گلے میں رسی ڈال کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے ناجانے کتنے بھائی جیتے جی مر گئے۔ اگر عورت یہ شرم و حیا والا گہنا نا اتارتی اور اسلام کی بیٹی بن کر معاشرے میں اپنا ایک مقام بناتی تو کوئی باپ ایسے ذلّت کی موت نہ مرتا کوئی گھر ایسے نہ اجڑتا۔ یہ گہنا اگر ہر عورت پہن لے تو یقیناََ سب کی دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔یہ سچ ہے کہ مرد حوس کا پجاری ہے مگر جب تک عورت خود نا چاہے کوئی مرد اس کی طرف بری نظر بھی نہیں ڈال سکتا۔ اسلام نے عورت کو رہنے سہنے اور پہننے کے طریقے بتائے ہیں، آداب گفتگو سکھائے ہیں مگر افسوس ہم آج کے جدید دور میں جدید قسم کے ماحول میں ڈھل چکے ہیں دین اسلام ہماری پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے کا ہمارے پاس ٹائم نہیں۔ ہمارے پاس ٹائم ہے تو صرف مغرب کی تحزیب کو اپنانے کا ، ان پر عمل کرنے کا اور ان جیسی ذلّت والی زندگی جینے کا۔ ہم نے اسلام سے دوری اختیار کر لی جس کی وجہ سے ہم رسوا ہو رہے ہے۔ کیا میری بہنوں آپ نے قرآن پاک کی وہ آیت جس کا مفہوم ہے کہ اے نبیوں اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ جب گھر سے نکلیں تو اپنے اوپر بڑی چادریں ڈال لیا کریں تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں کیا نہیں پڑھی۔۔؟ پڑھتے بھی کیسے ہم نے تو قرآن سمجھنا تو دور کھولنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔قرآن پاک کو تو ہم نے صرف تاکوں میں سجانے کے لیے رکھا ہوا ہے۔

Exit mobile version