Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاءاور جدت پسندی (انعم حسین)

سورج کی کرن کھڑکی سے کمرے میں آرہی تھی اور ایمان عبایا پہنے شیشے کے سامنے کھڑی نقاب کر رہی تھی کہ اتنے میں اس کی چھوٹی بہن اپنی آپا کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کمرے میں آئی۔ ایمان نے پیار بھرے لہجے سے پوچھا۔
”کیا ہوا میری گڑیا کو ایسے کیوں دیکھ رہی ہے؟ اس کی چھوٹی بہن حیاءنے کہا۔۔
”آپا آپ جب بھی کہیں جاتی ہیں نقاب کیوں کرتی ہیں اور آپکا اس نقاب میں دم نہیں گھٹٹا۔۔؟“، ایمان نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
”میری پیاری بہن یہ ہمارے رب کا حکم ہے تو بھلا اس میں گھٹن کیسی۔۔ میں تو نقاب میں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہوں اور صرف میں ہی نہیں ہر لڑکی ہر ایک عورت کی عزت حجاب میں محفوظ ہے۔“،حیاءنے چڑچڑے ہوئے مزاج سے کہا۔۔
”لیکن آپا میں نقاب نہیں کروں گی کبھی مجھے تو اس کے بارے میں سوچ کے ہی گھٹن ہوتی ہے۔۔“
”میری بہنا اللہ نے ہمارے دل کو اس گھٹن کے لیے کھول دیا ہے۔۔“ ”تو کس بات کی گھٹن؟“، ایمان نے کہا۔
”اور ویسے بھی آپا آج کل کا زمانہ کتنا ماڈرن ہے ہمیں اس کے مطابق چلنا چاہیے۔“حیاءعجیب سے رویے میں بولی۔
”نہیں! ہرگز نہیں!! یہ زمانہ تو جہالت کا ہے اور ہمیں تو اپنے اللہ کے بتائے ہوئے طور طریقوں اور اس کے نبی کی سنتوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے نہ کہ اس زمانہ جہالت کے اور دیکھو تمہارا تو نام بھی کتنا خوبصورت ہے، حیاء۔“
لیکن آپا یہ شرم و حیاءکیا ہے۔۔ شرم کیا ہوتی ہے؟، حیا ءنے معصوم سا منہ بنا کر پوچھا۔
”شرم وہ ہے جب آپ سب کے سامنے کوئی غلط کام سر انجام دے رہے ہوں اور آپ کو خود پہ شرم آئے ایسا محسوس ہو کہ آپ نے کوئی بہت ہی غلط کام کردیا ہے۔ سب کے سامنے غلط کام سر انجام دینے سے انسان شرم محسوس کرتا ہے لوگوں کے تنظ تانوں سے کیونکہ دنیا کے سامنے بنایا ہوا اس کا وہ نام خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اکیلے میں سب سے چھپ کر کوئی غلط کام کرے تو وہ اتنی شرم محسوس نہیں کرتا۔“
وہ کیوں آپا؟، اس نے آپا کے جواب پر مختصرا کہا۔
”کیونکہ اس شخص کے دل میں خدا کا ڈر نہیں ہے۔ بہت ہی افسوس کی بات ہے یہ ویسے۔ انسان وہ کام سب کے سامنے کرتے ہوئے ڈرتا ہے لیکن اکیلا تنہائی میں جب خدا اسے دیکھ رہا ہوتا ہے تب اسے کوئی شرم و حیاءنہیں ہوتی۔۔۔ سب سے پہلے تو انسان کے اپنے دل و دماغ میں خدا کا ڈر ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے دل میں خدا کے لیے حیاءہونی چاہیے۔ جب اس کے دل میں خدا کا ڈر اور حیاءہوگی تو وہ ایک چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی نہیں کرے گا۔ اگر انسان میں شرم نہیں تو حیاءبھی نہیں اور حیاءتو ”ایمان“ کا حصہ ہے۔ اگر ہم میں حیاءنہیں تو ہمارا ایمان بھی مکمل نہیں۔ “
”انسان کو سب سے پہلے اپنی خود کی اصلاح کرنی چاہیے۔ انسان کے دل میں شرمندگی اور حیاءہونی چاہیے اور ایسی حیاءکہ کوئی برا کام کرتے ہوئے اس کو جھجک محسوس ہو۔ شرم و حیاءتو عورت کا زیور ہے اور زیور کی قیمت تو ایک سنہار ہی جانتا ہے۔ جو سب سے زیادہ اور قیمتی زیور ہوتا ہے سنہار اس کو سب سے محفوظ جگہ پر رکھتا ہے یا ہم کوئی زیور خریدتے ہیں تو اسے ایسے ہی کھلا تو نہیں رکھ دیتے نہ اس کو اچھی طرح سے کسی ایسی محفوظ جگہ پر رکھتے ہیں جہاں سے اس کی چوری کا بھی کوئی خطرہ نہ ہو۔ اسی طرح اللہ تعالی نے عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کو ایک بڑی سی چادر میں ڈھانپے تاکہ وہ زمانے کی بری نظر سے محفوظ رہے۔“
”آپا۔۔۔ میں بھی اب عبایا پہنوں گی۔“ اپنی آپا کی بات سن کہ حیاءبولی۔
”صرف عبایا؟ ہمیں اس کی ایک جدت کو اپنانا ہے ایک جدت اختیار کرنی ہے عبایا تو سب پہنتے ہیں اور عبایا کو لوگوں نے ایک فیشن بنا لیا ہے جو کہ ہمارے مذہب کے سخت خلاف ہے حلاکہ ہمیں یہ اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے۔“ ایمان نے حیاءکی بات سن کر کہا۔۔
جو رکھتی ہے سنبھال کر بس وہی لڑکی جانتی ہے
آنچل نہیں ہے ربّ کی رحمت اوڑھ رکھی ہے سر پہ
قرآن مجید کی سورہ الحزاب میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ: ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنے اوپر چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچانی جائیں ستائی نہ جائیں۔“
”اس آیت سے ہمیں سیکھنے کو ملتا ہے کہ حجاب ایک مسلمان لڑکی یا عورت کی پہچان اور فخر ہے۔ ایک مسلمان عورت کا حسن ہی حجاب میں ہے۔ “
ایمان کی باتوں سے حیاءکا دل جس گھٹن سے گھبرا رہا تھا اس کا دل اس گھٹن سے باہر آگیا۔
”آپا میں بھی اب حجاب کروں گی اور اللہ کا حکم مانو گی۔ اب مجھے گھٹن محسوس نہیں ہوگی۔۔“ایمان نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
”میری گڑیا یہ گھٹن تو تمہارے ذہن میں تھی جو تمہیں خدا کے حکم سے ڈور کر رہی تھی، میری ایک بات اور یاد رکھنا۔۔
ہمیں صرف لباس کی حیاءکا خیال نہیں رکھنا بلکہ۔۔ کسی سے بات چیت میں حیاءکرنی چاہیے یعنی زبان سے جھوٹ، غیبت ان سب چیزوں سے ڈور رہنا ہے اور خاص طور پر اپنی سوچ و خیال میں بھی حیاءو شرمندگی کرنی چاہیے۔ اگر ہماری سوچ میں حیاءہوگی تو ہم کبھی کوئی غلط کام نہیں کر سکتے۔۔ ہمیں اپنے ظاہر اور باطن دونوں میں شرم و حیاءکرنی چاہیے۔“
یہ کام ہے صبح وشام کرنا
حیاءکے کلچر کو عام کرنا

Exit mobile version