ایک غلط تصور خیال کیا جاتا ہے جب شرم وحیا کو صرف اسلام سے وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ جب اسے خواتین سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسلام میں شرم وحیا کا تصور مردوعورت دونوں کے لیے یکساں ہے۔ جدید دور بے حیائی اور بے راہروی کا دور ہے۔ اس دور میں عورت کو دیے گئے حقوق سے بے بہرہ جاہل لوگ اسے بیڑیاں خیال کرتے ہیں۔ اور عورت کو غلط راستے پہ چلانے کے لیے نت نئے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ عورت کو حیا سے دور کردیا ہے۔ چادر اور چاردیواری کو تحفظ کی ضمانت سمجھنے والے معاشرے میں اسی عورت کے ذہن کو منتشر کیا گیا ہے کہ وہ گھر کو قید اور اسلام سے ملی عزت کو پیروں کی بیڑیاں سمجھنے لگی۔
شرم وحیا کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے۔ دنیا کے پہلے انسان آدم تھے۔ شیطان کے ورغلانے سے ان کو ملی سزا میں وہ بے لباس ہو گئے لیکن فوراً ہی درختوں کے پتے لے کر انہوں نے اپنے وجود کو ڈھانپناشروع کردیا۔ یہ شرم وحیا تھی جو ربِ کریم نے انسان کی فطرت میں رکھ دی۔ مگر جدت پسند، نام نہاد مسلمان اس فطرت کو یکسر نظر انداز کر بیٹھے ہیں۔ مغرب نے ہمارے ذہنوں کو گندگی سے بھر دیاہے۔ جس کا ایک میڈیم ٹی وی ہے۔ انگریزی لباس پہنے ہماری اداکاراوں نے اپنے جلوے دکھانے شروع کیے۔ ابا، چاچا نے تنقید کی۔ تو کچھ عرصہ پا بندیاں لگیں مگر پھر کیا۔ اسکول،کالج کے لباس بدلے. لڑکیوں کو کہا گیا کہ نانیاں دادیاں بن کر اسکول نہ آیا کریں۔ سیش یعنی ایک باریک پٹی لگایا کریں۔یہ دس سال پہلے لاہوں کی بات ہے۔ جب مغرب کی چالوں نے مکمل طور پہ ہمیں ذہنی غلام کرلیا۔ ہم بطورِ مسلمان پردے کے احکام پہ عمل کرنا چاہتے ہیں تو دل نادان کو جدت پسندی کے سحر نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ سورت احزاب، آیت 59 میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔
”اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جائے گی۔ پھر وہ نہ ستائی جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے“۔
یہاں قرآن پاک کی اس آیت میں جلابیب لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کے معنی وہ چادر جو سر سے پاوں تک مکمل اوڑھنی ہوتی ہے۔ رب تعالی فرماتا ہے کہ وہ اوڑھ لیں تا کہ پہچانی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔
مگر آہ! ایک عورت ہوں مگر اب شاید کہ شرمسار ہوں۔ 8 مارچ میں خواتین کی آذادی اور فحاشی کے کھلے عام مظاہرے مجھے غیرتِ قومی سے گڑھ جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ پڑھنے والو تاب لاﺅ اور سنو کہ تم کس نہج پہ ہو۔ ماﺅں، بیٹیوں کے کس حق کی بات کرنے تم سڑکوں پہ نکلے ہو۔ باپ، بیٹے، بھائی اور شوہر تو خود سڑکوں پہ حقوق مانگ رہے ہیں۔ آخر کس سے؟؟عورت کے حق کے محافظ ہی اس کے حق کے لیے دوسروں کے سامنے دست بستہ ہیں آخر کیوں؟
ان نام نہاد مغرب ذدہ مردوں نے عورت کو اس مقام تک لایا ہے کہ وہ کھلے عام چھوٹی قمیص اور کشادہ گلے کے ساتھ تنگ پھٹی ہوئی جینز کے ساتھ باپ کے ساتھ سڑک پہ شرم وحیا کا جنازہ نکال کر اپنا حق مانگ رہی ہے۔ پڑھنے والوں نے پڑھا کہ ان بینرز پہ شرم وحیا کے جنازے نکالے گئے۔ اسلام پہ ایمان پہ پے در پے حملے کیے گئے۔ میں عورت ہوں۔ مگر الحمداللہ مجھے میرے اللہ نے ہر وہ حق دیا جس کی مجھے ضرورت تھی۔ میرے گھر کے مردوں نے چادر اور چاردیواری کے جو معنی مجھے سکھائے ان سے بڑھ کہ دنیا میں مقدم کچھ بھی نہیں۔ جب حق حاصل ہوں تو دکھاوی کس بات کا؟ کس بات کا رونا لے کر میں سڑکوں پہ نکل پڑوں؟
جو میں سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
یہ زمانہ جہل کی زد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے
ہمارے ہاں پہلا غلط تصور شرم وحیا کو اسلام سے وابستہ کرنا ہے جبکہ یہ انسانیت کی معراج ہے۔ جبکہ دوسرا غلط تصور شرم وحیا کو عورت سے منسوب کرنا ہے۔جبکہ شرم وحیا ایمان کا حصہ ہے۔ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں۔ سورت نور آیت 30 میں اللہ فرماتا ہے ”مسلمان مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے اور لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے خبردار ہے۔“
سورت نور آیت نمبر 31 میں عورتوں کے لیے حکم ہے کہ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت پہ فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں میں اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی پر ظاہر نہ کریں۔“
یعنی اللہ نے شرم وحیا کے احکام میں پہلا حکم مردکے لیے دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھے۔ اس کے بعد عورت کے بارے میں حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ جدت پسند مرد معاشرے میں ترقی کرنے کے لیے فیشن پرست خواتین کا انتخاب کرتے ہیں یا پھر اپنی خواتین کو جدت پسندی کے لبادے اوڑھا کر دورِ جدید میں ترقی کا سفر شروع کرتے ہیں۔ عورت جسے زینت کے اظہار سے بھی منع کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک نظریاتی جنگ ہے۔ پہلے جنگ کے لیے میدان سجا کرتے تھے مگر اب منصوبے بنا کر ایک نظریے کی صورت منظرِ عام پہ لائے جاتے ہیں۔ پھر ہم جیسے معاشرے جو ان کا ہدف ہوتے ہیں خودبخود ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہم اپنی تعلیمات، رسم ورواج کت چھوڑکر جدید دور کے پھیلائے خوشنما فحش اور کھوکھلے انداز اپنا لیتے ہیں۔نتیجتًا کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا والا انجام ہوتا ہے۔
جدت پسندی کے دلدادہ افراد معاشرے میں فحاشی اور عریانی کو فروغ دینے کے لیے مغرب سے مالی امداد بھی وصول کرتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں ہمارے معاشرے میں عام ہو چکی ہیں۔ عورت جو کائنات کی حسین تخلیق ہے۔ پردے سے نکل کر اب نت نئے بے ڈھنگے اور فحش لباس میں نظر آتی ہے۔ مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہے تو کرے مگر عورت کو عورت رہنے دے۔ عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس میں یہ نعرے لگائے جاتے ہیں۔ چادر چاردیواری سے آزادی چاہیے۔ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منا کر اسلام اور نکاح جیسے پاکیزہ رشتے کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں یہ کہہ کر کہ محبت کا دن ہے۔ محبت شرم وحیا کو اتار کر پھینک دینے کا نام ہر گز نہیں۔ اپنے محرم رشتوں سے محبت کیجیے۔ ان رشتوں کو منائیے۔ ہر دن آپ کا ہے۔ مگر اسلام کا مذاق مت اڑائیے۔ اسلام سے تعلق بھی ہو اور دل میں بے ایمانی بھی۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
شرم وحیا ایمان کاحصہ ہے۔ جدت پسندی بری نہیں مگر حد سے نکلنےوالے کسی بھی مذہب کے پیروکار ہوں۔ ناقابل معافی ہیں۔ ہم جب کسی ادارے میں نوکری کرتے ہیں تو پہلے ایک حلف نامہ دستخط کرتے ہیں کہ ہم تمام اصول وضوابط کی پابندی کریں گے۔ تو کیا وجہ ہے کہ جس رب نے زندگی دی۔ ہر نعمت عطا کی۔ اسی کے احکام کی نافرمانی بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے احکام کے خلاف اپنے مفاد کے لیے فساد پھیلاتے ہیں۔ شرم وحیا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جدت پسندی اپنائیے۔ ترقی کیجیے۔ آپ کا حق ہے۔ مگر سوچیے۔ کہیں آپ کی ترقی اور جدت پسندی آپ کی اگلی نسلوں میں فحاشی اور بدکاری کو عام تو نہیں کر رہی۔ نت نئے جرائم جنم لے رہے ہیں۔ کیا یہ سب شرم وحیا ترک کرنے کا سبب تو نہیں؟ معاشرے میں پہلے عورت محفوظ نہیں تھی مگر اب شاید کوئی بھی محفوظ نہیں۔ چاہے وہ مرد ہے عورت ہے یا بچہ ہے۔ خدارا سوچیے ! شرم وحیا کو اپنی زندگی کاحصہ بنائیے۔ یہی اچھی اور صحت مند زندگی کا راز ہے۔
