Site icon Writers Club Pakistan

شرم وحیا اور جدت پسندی (نصرت شاہد)

انسانی معاشرے میں حق وباطل، خیروشر جز او سزا اور حیا ءو فحاشی کا وجود اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی وجود ۔ ابلیسیت کی پہلی فتح اولین جوڑے کو لباس سے محروم کرنا تھا اس کے بعد تمام تر تاریخی واقعات میں اسی بنیاد کی شیطانی جارحیت کارفرما نظر آتی ہے کیونکہ اہل اسلام کی بنیادحیا پر استوار ہے یعنی حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ قرآن کے مطابق مرد ہو یاعورت تمام ایسے مواقع سے اپنے کو بچا کے رکھے جن میں بی حیائی کا امکان پایا جاتا ہو۔ حیا صرف جسمانی اعضا کو چھپانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرز عمل ہے اور دراصل مثبت طرز عمل ہی جزا کا پیمانہ ہے۔

جب تک شرم وحیا کا نفاذ گھر ، مدرسے، درسگاہیں، کاروبار اور اعلیٰ ایوانوں میں نہیں ہوگا ہوس کی خوفناکی اور شیطانی جارحیت میں کمی ممکن نہیں ہے لہٰذااگراس سلسلے میں ریاست نااہل اور غیر فعال ہو تو معاشرہ بہت سے اقدامات کر سکتا ہے۔ قوم کو شرم وحیا سے عاری کرکے جدت پسندی کے سیلاب میں تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے اس کے خلاف جہاد میں بلا تفریق مسلک و مذہب تعصب و تفریق کے قوم کو جگانے اور ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے اور یہ ہر ایک کا عمل دستوری حق ہے اس مہم میں طلبا و طالبات مختلف سرگرمیاں ترتیب دیں مثلا یہ خطبات بھی ہو سکتے ہیں تقریری مقابلے بھی پوسٹرز بھی۔ غرض ہر وہ پر امن پلیٹ فارم ہو سکتا ہے جن کے ذریعے ملکی سطح پر وزن محسوس ہو۔

ہر معاشرتی گراوٹ اور شرم وحیا سے عاری طرز عمل کومعاشراتی ضرورت کہ دینااسلامی معاشرے کے فکر وعمل سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ملک عزیز کا وجود ایک کلمہ واحد پہ استوار ہے اور اس کی بنیاد ہے کہ اللہ کے سوا کئی الٰہ نہیں ہے نہ بیرونی قرضے اور نہ لبرل اقدار ان کے مستقبل کافیصلہ کریں گی۔ جن کی مذموم و ملعون کاوشیں ہمارے ملک وملت میں بر سر پیکار ہیں۔ الحمدللہ اللہ کا دین تو اتنا لطیف ہے کہ یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ عورت ایسی خوشبو لگا کر باھر نکلے جو کہ غیر کے لیے باعث کشش ہو یا ایس زیور پہن کر نکلیں جس کی جھنکار غیر کو متوجہ کرکے فتنے کا سبب بنے کیونکہ میرا دین تو دین فطرت ہے اور اس کی پاسداری راہ نجات و فلاح ہے۔

آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”حیا اور ایمان اکھٹے رہتے ہیں ان میں سے ایک چلاجائے تو دوسرا خودبخود اٹھ جاتا ہے“ (مشکوة ا لمصابیح)

ہم شاید یہ بات بھول چکے ہیں کہ اللہ جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو اسے حیا سے محروم کردیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو توایٹم بم گرانے کے بجائے ان کو فحاشی اور بے حیائی کی دلدل میں دھکیل دیا جائے کیونکہ جب کوئی آدمی حیا کے حصار میں رہتا ہے اس کا دامن ذلت ورسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب وہ اس صفت سے عاری ہو جاتا ہے تو ذلت اس کا مقدر بن جاتی ہے اورایمان اس کے دل سے جاتا رہتا ہے۔

ایک جھلک ان معاشروں کی بھی دیکھیں جوآخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید چکے ہیں جہاں شیطان کا تسلط ہے ترقی اور جدت کے نام پر عورت کو بے پردہ وبے حیا بنا کر گھر سے باہر نکال لیا گیا اور پوری عالم اسلام کی اقدار کو پامال اور تباہ و برباد کردیا ہے۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”حیا خیر ہی لاتا ہے “ (بخاری ومسلم)

اس پیاری اور پر حکمت حدیث مبارکہ میں پورا دین سمٹ گیا ہے کیونکہ دین برحق خیر ہی خیر نرمی ہی نرمی امن ہی امن ہے۔

فی زمانہ شرم وحیا کے گوہر جواہر مفقود ومعدوم ہوتے جارہے ہیں اس حیا کو واپس لانے کے ذمے داری عورت مرد دونوں پہ عاید ہوتی ہے خاص طور سے حیا عورت کا سرمایہ اور زیور ہے جو اس کی شناخت ہے۔ رب کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مدین پہنچنے پر دو لڑکیوں کا ذکر ان کے قد بت یا رنگ روپ کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ حیا کی وجہ سے تا قیامت رکھا۔

یہ خاص نشاندہی ہے اس پیغام کی وجہ سے رب کی طرف سے کہ حیا ایمان اور خیر سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ حیا سے بے حیائی کا سفر لمحوں میں طے ہوجاتا ہے لیکن بے حیائی کا سفر حیا کی طرف واپس آنے میں صدیاں لگتی ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا ”میرے بعد مردوں کے لیے کوئی بھی فتنہ اتنا ضرررساں نہیں جس قدر کہ عورتوں کا فتنہ ہے ۔“(بخاری، مسلم )

اللہ کریم مجھے اور آپ کو سب کو قرآن حکیم اور سنت حبیب ﷺ کے ذریعے نفع و فلاح عطا فرمائے، آمین

آخر میں ایک اور بات کا ذکر کردینا بہتر ہے وہ یہ ہے کہ عورت اپنے وقاروتمکنت کا پورا خیال رکھے عفت پاکدامنی شرم و حیا اور ساتروشرعی لباس و حجاب کاالتزام کرے ایسا حجاب کہ اس کے پورے بدن کو چھپادے کتاب وسنت کی اتباع میں اسے ایسا کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرہ امن وعافیت اور تحفظ کا گہوارہ بن جائے۔ میری آرزو اورتمنا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ میری ان باتوں کو وہ کان ملیں جو انہیں غور سے سنیں وہ دل میسر ہوں جو انہیں محفوظ رکھیں اللہ سے توفیق کی طالب ہوں اسی پہ بھروسہ کرتی ہوں اسی کی طرف رجوع کرنا ہے، اللہ ہم سب پہ رحم وفضل فرمائے۔آمین

 

شرم و حیا اور جدت پسندی

نزہت ریاض ، کراچی

”عابدہ او عابدہ ۔۔ ارے منحوس کان بند ہیں کیا تیرے ۔۔ ؟“ عابدہ کی ساس نے چیخنے کے انداز میں بہو کو آواز دی۔ ”اماں توے پر روٹی ڈالی ہوئی ہے جل جائے گی“، عابدہ نے کچن سے ہی ساس کو جواب دیا اور توے سے روٹی اتار کر کپڑے میں لپیٹی اور تیزی سے ساس کے کمرے کی طرف لپکی۔”جی اماں بولیں“، عابدہ نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔ جی اماں کی بچی! چار آوازیں لگاو ¿ تو ایک بار سنتی ہے ۔ پانی پلا مجھے، عابدہ کی ساس نے غصے سے کہا۔ جی اچھا! ساس کو پانی پلا کر عابدہ واپس کچن کی طرف جانے لگی کہ ساس کی آواز دوبارہ کانوں میں گونجی ۔ ”کھانے میں کتنی دیر ہے؟“، ”کھانا تیار ہے اماں ! بس روٹی ڈال رہی تھی ، ساس کے سوال پر عابدہ نے جواب دیا۔۔اچھا اچھا جلدی کر۔

عابدہ کی شادی کو 7 سال ہو چکے تھے ، شادی کے شروع دنوں میں اس کے سسرال والوں رویہ بہت اچھا تھا شوہر بھی اس کا خیال رکھتا تھا ۔ شادی کو ایک سال ہوا اور عابدہ سے سب کا ایک ہی سوال تھا کب خوش خبری سنا رہی ہو ۔

ساس کے پاس محلے پڑوس اور برادری کی عورتوں کا ہر وقت کا آنا جانا رہتا وہ بھی ہر چکر میں یہی سوال دہراتی رہتی۔ کچھ ہوا کہ نہیں؟ اور ساس سوالیہ نظروں سے عابدہ کی طرف دیکھنے لگتی۔۔ جب ڈیڑھ سال ہوا تو سوالیہ نظریں چبھتی ہوئی نظروں میں بدل گئی عابدہ کے پاس ہر سوال کے جواب میں صرف خاموشی تھی۔

وقت گزرتا جارہا تھا اور سسرال والوں کا رویہ دن بہ دن بد سے بد تر ہوتا جا رہا تھا ساس کا اپنے بیٹے سے اصرار تھا کہ دوسری شادی کر لو مگر عابدہ کا شوہر دوسری شادی کے لیے راضی نہ ہوتا تھا حا لانکہ وہ عابدہ کا خیال نہیں رکھتا تھا ۔

سسرال میں اس کے ساتھ کتنا بھی برا سلوک ہو رہا ہو وہ کبھی اس کی کوئی حمایت نہ کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سسرال میں عابدہ پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی تھی مگر وہ بھی ایک چپ سو کو ہراے پر عمل کرتے ہوئے سارا دن کولہو کا بیل بنی کام میں لگی رہتی اور اپنے لیے بڑی مشکل سے نماز اور تلاوت قرآن کا وقت نکال پاتی۔ ایسے ہی ایک دن عابدہ کی بڑی نند ان کے گھر رہنے لگی۔ وہ جب بھی رکنے کے لیے آتی عابدہ کی ساس کا رویہ عابدہ کے ساتھ اور برا ہو جاتا کیونکہ وہ عابدہ کے خلاف اس کی ساس کو بھڑکاتی رہتی تھی۔

اس بار اس کے دماغ میں ایک پلان تھا اس نے اپنی ماں سے سرگوشیوں میں کہا جب تک عابدہ زندہ رہے گی تب تک بھائی شادی کے لیے راضی نہ ہو گا اور تم پوتے کی آرزو کرتے کرتے اس دنیا سے چلی جاو ¿ گی کیوں نہ ہم عابدہ بھابی کو جلا کر مار دیں اور حادثہ قرار دے دیں۔ ساس کو بھی یہ شیطانی منصوبہ پسند آگیا۔

عابدہ دوپہر کے کھانے پینے کا ساراکام نمٹا کر اپنے کمرے میں ظہر کی نماز پڑھتی قرآن پڑھتی اور پھر عصر میں سب گھر والوں کے لیے چائے بنانے کچن میں آتی۔ اس درمیان کے وقت کب فائدہ اٹھاتے ہوئے عابدہ کی نند نے کچن کے چولہے کے سارے برنر کھول دیا، جیسے ہی عابدہ کے کچن میں آنے کا وقت ہوا برنر بند کر کے تیز خوشبو والا اسپرے کر دیا تاکہ عابدہ کو گیس کی بدبو نہ آسکے۔ اس کا شیطانی منصوبہ کامیاب ہوا جیسے ہی عابدہ نے ماچس کی تیلی جلائی پورا کچن آگ کی لپیٹ میں آگیا اور عابدہ کے ریشمی کپڑوں نے فوراً آگ پکڑ لی وہ بے چاری چیختی چلاتی کچن کے دروازے کی طرف بھاگی مگر دروازہ تو باہر سے بند تھا۔

عابدہ کی نند نے عابدہ کے کچن میں جاتے ہی خاموشی سے باہر سے دروازے کی کنڈی بند کر دی تھی۔ اللہ کیا منظر تھا دو عورتیں تیسری عورت کو جلتے بلکتے دیکھ رہی تھیں اور عابدہ کی چیخوں پر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگ رہی تھی۔ آخر عابدہ زندگی کی بازی ہار گئی اور حادثہ بتا کر اس کا کفن دفن کر دیا گیا اس کے غریب ماں باپ بھی رو دھو کر اپنے گھر چلے گئے سوئم سے فارغ ہوکر عابدہ کا شوہر کافی دیر تک عابدہ کی قبر پر سر جھکایا افسردہ سا بیٹھا رہا پھر خاموشی سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر پہنچ کر اس نے ڈور بیل بجانے کے بجائے اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول لیا تاکہ گھر والے پریشان نہ ہوں۔

اب عابدہ تو تھی نہیں جو آدھی رات کو بھی اٹھ کر اس کا دروازہ کھولا کرتی تھی اندر آنے کے بعد وہ اپنے کمرے کے طرف جا رہا تھا کہ اسے ماں کی آواز سنائی دی امی جاگ رہی ہیں چلو تھوڑی دیر امی کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔ خالی کمرہ تو ویسے ہی کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔۔

ماں کے کمرے کے پاس آکر ایک لمحے کو رکا اندر سے زور زور سے بولنے کی آواز آرہی تھی یہ اس کی بہن کی آواز تھی جو ماں سے مخاطب تھی۔ میں نے تو آپ کی خوشی کے لیے عابدہ کو جلایا تھا اب عابدہ کے زیور تو کم از کم مجھے دو ، یہ سن کر تو اس کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی تو کیا عابدہ کی موت حادثہ نہیں تھی ۔ میری ماں اور بہن نے اسے مار ڈالا مگر کیوں اس نے زور سے دروازہ کھولا اور اپنی بہن کے سر پر جا کھڑا ہوا ۔

بدبخت تمہارا کیا بگاڑا تھا اس شریف عورت نے ۔۔ اس کی بہن نے خوفزدہ ہو کر سارا ماجرا کہ سنایا، ارے کم بخت یہ تو نے کیا کر ڈالا ، میں دوسری شادی کے لیے اس وجہ سے راضی نہ ہوتا تھا کہ میں اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ تھا۔ شادی کے پہلے دن سے ہی میں ازدواجی حق ادا نہ کر پایا تھا ۔ میں نے کئی بار اس شریف عورت کو بولا کہ تم مجھ سے طلاق لے لو میں تمہارے قابل نہیں ہوں مگر اس نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا کہ ”حیا میرا زیور ہے“ میں ہمیشہ آپ کا پردہ رکھوں گی اور وہ حیا دار عورت میرا پردہ رکھتے رکھتے اپنی جان کی بازی ہار گئی۔

 

شرم و حیا اور جدت پسندی

پریزہ شاہد، کراچی

حیا ا نسان کی فطر ی صفت ہے چونکہ د ین اسلام ایک فطر ی د ین ہے اس لیے اس میں حیا کی بہت تعلیم دی گی ہے۔نبی ا کرم نے فر ما یا:” © © حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ ( بخاری) یعنی جس شخص میں ا یمان ہو ا س میں حیا بھی ہو۔ شرم و حیا ا سلا می معا شرے کی بنیا د ہے۔ قران میں شرم و حیا اور عفت و پاکیز گی کو بنیادی ا ہمیت حاصل ہے۔ ہر دین کی ایک امتیازی علامت ہوتی ہے اور اسلام کا امتیاز حیا ہے۔ مسلمان معاشرے اور کا فرمعاشرے میں جو سب سے نمایاں فرق ہے وہ حیا کا تصور ہے۔ ایمان کی حفاظت میں حیا کا بڑا عمل دخل ہے۔ حیااورایمان جڑواںہیںاگر ان میں سے ا یک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے یعنی جس میں حیا نہیں رہتی اس میں ایمان نہیں رہتا۔

شیطان نے سب سے پہلے حضر ت ادم کو بہکا یا کہ اس در خت کا پھل کھا لو۔جب ا نھو ں نے کھا لیا تووہ بطو ر سزا بے لبا س ہو گے۔ اس سے ثا بت ہو ا کے روز ا ول سے شیطا ن کا یہی مقصد ہے کہ وہ انسا ن کی حیا پر وار کرے۔اس لیے دشمنان اسلام بھی اسلام ختم کر نے کے لیے سب سے پہلے مسلما نو ں کی حیا پر و ا ر کر تے ہیں۔ ڈ راموں، فلمو ں، ا شتہا را ت اور مارننگ شو ز کے ذ ریعے معا شر ے میں بے حیا ئی پھیلتی ہے۔ جب مسلما نو ںسے حیا چلی جا ے گی تو ا یما ن خو د ہی ر خصت ہو جا ئے گا۔ ان کی یہ ساز ش بالکل کا میا ب جا ر ہی ہے مسلمان بتد ریج حیا اور ایمان سے محر وم ہو تے جا ر ہے ہیں۔حیا کے دو در جے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ لو گو ں سے حیا کر نا ملا اساتذہ، والدین اور بزرگ وغیرہ۔ حیاکا یہ تصو ر جن میں پا یا جا ئے اور وہ اس کی و جہ سے خو د کو بر ے کا مو ں سے بچائےں اسلا م نے ان کی قد ر کی ہے۔

حیا کا دو سرا تصو راللہ سے حیا کر نا ہے اور یہ ہی حیا کا ا صل مقصد ہے کیو نکہ لو گو ں سے حیا کا سبب بھی پس پر د ہ اللہ سے حیا ہی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے ہمارا معاشرہ نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہے،جدت پسندی کی روشنیاں ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں ،آزادی کے مراحل ہم طے کررہے ہیں مذہب کو راستے سے ہٹا رہے ہیں لیکن ہمیں یہ ہی نہیں معلوم کہ ہماری منزل کیا ہے۔آزادی تو ہر شخص کی خواہش ہے لیکن یہ عجیب آزادی ہے جس میںتقلیدکی آمیزش ہے۔ہم خواتین کو حقوق دیتے ہیں لیکن اپنی روایات کے نہیں بلکہ مغربی اقدار کے مطابق ہم اختلاط کو گوارا کرتے ہیں کسی فائدے نقصان کی بنیاد پر نہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدت پسندی کی رائج اصطلاح ایک تاریک راہ ہے ،جس کا آغاز خواہش کی تکمیل کی امید سے ہوتا ہے اور انجام تباہ کن بے قراری اور بے سکونی کا ہوتا ہے ۔حضرت فاطمہ سب سے زیادہ حیا دار تھیںاور پردے کی نہایت پابند تھیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا ”اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے“ (سنن بیہقی)

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ مثلا: ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا انٹر نیٹ استعمال کرہے ہیں۔آپ کے آس پاس کوئی نہیںہے اور کسی کی آپ پر نگاہ نہیں ہے ،آپ جو چاہے دیکھ سکتے ہیں تب بھی اللہ تو آپ کو دیکھ ہی رہا ہے ۔ اس وقت اللہ سے حیا ہی ایمان ہے اور یہ ہی حیا ایک مومن سے مطلوب ہے۔

کبھی حیا انہیںآئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سوسو طرح فتور آیا

Exit mobile version