اسلامی معاشرے کی بنیاد شرم وحیا اور عفت و پاکیزگی پر قائم ہے ۔اسلام اور حیا کا آپس میںوہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے ۔اسلام میں حیا کی بے پناہ اہمیت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا ہے۔ جس شخص میں شرم و حیا نہیں گویا اس میں ایمان نہیں ۔بے شرم انسان ہر ذلت وپستی میں گرنے کے لیے ہر وقت آمادہ وتیار رہتا ہے جب کہ باشرم وحیا دار انسان اپنی اس صفت کی وجہ سے تمام مشکلات کے باوجود اپنے شرف انسانیت کی حفاظت کرتا ہے۔جب کوئی آدمی شرم وحیا کے حصار میں رہتا ہے۔ تو ذلت و رسوائی سے اس کا دامن بچا رہتا ہے۔ جب وہ اس صفت سے عاری ہو جائے تو پھر ضلالت و خباثت کا یہ کام ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتاہے آج کل فحش تصاویر اور نازیبا کلمات جدید ثفاقت کا اس طرح حصہ بن چکی ہے۔ جس طرح جاہلی ثفاقت کا حصہ مخلوط محفلیں روشن خیالی کی دلیل سمجھی جاتی ہیں حا لانکہ یہ قدیم جاہلیت کا طرہ امتیاز تھا ۔حیا اللہ رب العالمین کی طرف سے بندے کی حفا ظت کا قلعہ ہے حیا کی وجہ سے اللہ تعالی عذاب ٹال دیتا ہے ۔حیا سے محرومی بہت بڑی مصیبت اور بد نصیبی ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کومخلوط تعلیمی نظام کے تحت ابتدائی عمر ہی سے حیا کے قیمتی زیورسے محروم کر نے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ذرائع ا بلاغ نے لوگوں کا مزاج اس قدربگا ڑدیا ہے کہ شرم وحیا پر مبنی لباس ہو یا ادب ،کتاب ہو یا خطاب اس معاشرے میں اجبنی بن کر رہے گئے ہیں ۔آج یہ حال ہے کہ انسانی زند گی سے شرم و حیا معدوم ہوتی جا رہی ہے اور اپنی قدر ومنزلت کھو رہی ہے اس لیے کہ شرم و حیا اسلامی معاشرے کا لازمی جز ہے۔اسی بنیادپر فرمایا گیا ”جب تم حیا کھو دو ، تو جو چاہے کر“۔قرآن و حد یث میں فحاشی کی بنیاد آنکھ کی بے احتیاطی ہے اگر اسی پر قابو پا لیا جائے تو ساری بے حیائیاں دنیا سے رخصت ہوسکتی ہیںاسی لیے اسلام نے معاشرے کی بنیادی اکائیوںیعنی مرد و عورت کو اپنی نگا ہیں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گا ہوں کی حفا ظت کرنے کا حکم دیا ہے۔
شرم و حیا ایسا وصف ہے جو صرف انسان میں پایا جاتا ہے جانوروں اور انسانوںکے درمیان شرم وحیا وجہ امتیاز اور ان دونوں میں فرق کی بنیادی علامت ہے ۔اگر لب ولہجے ،حرکات و سکنات اور عادات و اطوار سے شرم و حیا رخصت ہو جائے تو با قی تمام اچھا ئیوں پر خود بخود پانی پھیر جاتا ہے افسوس ہے کہ اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں، اشتہارات اور ماڈلنگ شو کے نام پرمعاشرے سے شرم و حیا کی فضاءکو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ایک حقیقت ہے کہ مردوں کے اخلاق و کردار بگڑنے سے معاشرہ بگڑنے لگتا ہے اور جب عورتوں میںیہ بیماری پھیل جائے تو نسلیں تباہ و بربادہو جا تی ہیں۔ لہٰذامرد ہو یا عورت اسلام دونوں کو حیا اپنانے کی تلقین کرتا ہے اور حیا کو تمام اخلاقیات کا سرچشمہ قرار دیتا ہے۔اب یہاں یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ اسلام نے جدت پسندی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی لیکن اس کی غلط استعمال سے روکا ہے ۔جدت پسندی نے انسان کو مادی ترقی کے بام عروج تک پہہنچا دیا ہے ۔اسی طرح اس نے انسان کو بہت سے نفسانی امراض میں بھی مبتلا کیا ہے۔افسوس وہ شرم و حیا جسے اسلام نے مرد و زن کا جھومر قرار دیا ہے آج اس جھومر کو کلنک کیا جاتا ہے۔محرم و نا محرم کا تصور اور شعور دے کر اسلام نے مرد و زن کے اختلاط پر جو بند باندھا تھا آج اس کو لوگ بوجھ سمجھ رہے ہیں۔
قابل غور ہے کہ جو نسل نو والدین کے پہلو میں بیٹھ کر فلمیں اور ڈرامے دیکھ کر پروان چڑھے گی اس میں شرم و حیا کا جوہر کیسے پیدا ہوگا ؟ اس سوال کا جواب یہی ہوگا کہ اسلامی تعلیمات فطرت انسانی میں شرم وحیا کی صفت کو ابھارتی ہے اور اس میں فکر و شعور کے رنگ بھر کر اسے انسان کا خوش نما لباس پہنا دیتی ہے لہٰ
ذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حیا کو متاثر کر نے والے تمام عوامل سے دور رہا جائے اور اپنے تشخص اور روحِ ایمان کی آبیاری اور حفاظت کی جائے۔
