بچپن اور پچپن میں کتنا فرق ہے؟ کوئی کچھ بھی کہے، میں تو سمجھتا ہوں کہ بس ”سوجھ بوجھ“ کا فرق ہے۔ گو میرے ”پچپن“ میں ابھی بہت دیر ہے لیکن ”بچپن“ کو گزرے کافی عرصہ بیت چکا ہے اور میں ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ ”بڑا آدمی“ کسے کہتے ہیں۔
بچپن میں دادی اماں دعا دیا کرتیں کہ ”اللہ! تمہیں بڑا آدمی بنائے۔“ تو مجھے فی الفور اس وقت کے طویل القامت آدمی کا خیال آتا اور دل سے دعا نکلتی، ”یااللہ! اتنا بڑا بھی نہ کرنا کہ میں کار میں بھی نہ بیٹھ سکوں۔“ یعنی ایسے سکڑ کر بیٹھنا کہ گھٹنے سینے سے جڑ جائیں اور سر گھٹنوں کے اندر پھنسا ہوا ہو۔ یہ بھی کوئی بیٹھنا ہوا؟
بہرحال تعلیم نے کچھ شعور دیا تو سمجھ میں آنے لگا کہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے، جس کے سامنے چھوٹے لوگ ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے ہوں۔ جیسے داستانوں میں بادشاہ سلامت کے آگے درباری۔ ذرا اور بڑے ہوئے تو اِس بادشاہ کی تعریف پر نہ جانے کون کون پورا اترنے لگا۔ ہم ماسٹر صاحب کے آگے سر جھکائے، ماسٹر صاحب ہیڈماسٹر صاحب کے آگے اور ہیڈماسٹر صاحب تقریبات کے مہمانانِ خصوصی کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوتے۔ ایک عجب دستور تھا۔
ڈاکٹر بننے کا شوق تو تھا لیکن اس وقت ہمارے لیے ”ایم بی بی ایس“ کا مطلب ”میاں بیوی بچوں سمیت“ تھا۔ یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس عشق کے لیے آگ کے سات سمندر ڈوب کے پار کرنے ہوں گے۔ یہ سات سمندر پار کرنے والی مشقت نصیب میں لکھی تھی تو عبور کرنی ہی پڑی اور ہم ایم بی بی ایس ہوکر ”بندہ ذات“ سے خارج ہو گئے، جب کہا گیا کہ ”بندے ہو یا ڈاکٹر؟“
ڈاکٹر تو بن گئے لیکن ”بڑا آدمی“ اب بھی سمجھ سے دور تھا۔ بیمار، سسکتے انسان میرے سامنے آتے، ان کی بیماریوں کا علاج تو ہو جاتا لیکن سسکیوں اور آہوں کا مداوا میرے بس میں کہاں تھا۔ ان سسکیوں اور آہوں کی داستان سنتا تو دل دکھ سے لبریز ہو جاتا کہ ہر سسکنے والے کا تعلق کسی نہ کسی بڑے آدمی سے ضرور ہوتا تھا۔ لیکن کسی بڑے کو کسی چھوٹے کی ایسی خرافات سے دلچسپی کیوں ہونے لگی۔ مرتے انسان کو بچانے کی جدوجہد اور دکھ درد بانٹ لینے کے عوض کبھی کبھی مجھے بھی بڑا آدمی کہا جاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ مجھ سے کئی گنا بڑے لوگ ہر جگہ موجود ہیں، جن تک میری رسائی ہی ممکن نہیں، پھر میں کہاں بڑا ہوا؟
اب اگر میں ایک چھوٹے آدمی کی بات کروں، جو بذات ِ خود چھوٹا آدمی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا ہے۔ نام ہے ’شبّن میاں‘ لیکن اس کی کہی ہوئی باتیں بسااوقات مجھے کسی ’بڑے‘ کی کہی ہوئی باتیں لگتی ہیں۔ وہ میرے پاس آیا تو اپنی بیماری کے علاج کے لیے تھا لیکن نہ جانے کیوں میرے ساتھ کسی بزرگ جیسی محبت سے پیش آنے لگا ہے۔ عمر رسیدہ اور جہاں دیدہ شخص، جسے اس کی اولاد نے اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا اور وہ مجھے اپنی اولاد جیسا ماننے لگا ہے۔ ایک دن میں اسی سے پوچھ بیٹھا، ”بڑا آدمی کون ہوتا ہے؟“ بولا، ”ایک ہوتا ہے عمر کا بڑا، ایک بات کا بڑا، ایک جسامت کا بڑا، ایک قامت کا بڑا، ایک عہدے کا بڑا، ایک عزت کا بڑا اور…. ایک مقام کا بڑا۔ بولو! کون سا چاہیے؟“میں نے کہا، ”باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ عزت اور مقام کو الگ کیوں کیا ہے؟“ تو بولا، ”عزت کا بڑا وہ ہے، جس کی دنیا دل سے عزت کرے اور مقام کا بڑا وہ ہے، جس کی بڑائی اور عزت اس کے مقام کی وجہ سے ہو۔“اس کی بات تو تمام ہوئی لیکن میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہمارا مقام کیا ہے؟ عوام کا مقام کیا ہے اور لیڈروں کا مقام کیا….!

